Tuesday, April 19, 2011 | By: M.Mubin

Urdu Short Story Dahshat Ka Ek Din By M.Mubin





افسانہ دہشت کا ایک دِن از:۔ ایم مبین

جب وہ گھر سے نکلا تو سب کچھ معمول کے مطابق چل رہاتھا ۔

بلڈنگ کا واچ مین اُسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا اور اُس نے اُسے سلام کیا ۔ اُس نے سر کے اِشارے سے اُس کے سلام کا جواب دیا ۔ آگے بڑھا تو ایس ۔ ٹی ۔ ڈی میں بیٹھے ساجد نے اُسے سلام کیا ، خلاف معمول اُس دِن اُس کے پی ۔ سی ۔ او پر بہت زیادہ بھیڑ تھی اور زیروکس نکالنے والوں کی بھی قطار لگی تھی ۔ کلاسک آئیل ڈپو میں بیٹھے گڈو نے اُسے سلام کیا ۔ اُن کے سلام کا جواب دیتا جب وہ سیڑھیوں سے نیچے اُترا ۔

سامنے آلو پیاز والے دوکانداروں کی شناسا صورتیں دِکھائی دیں ۔ اور وہی رکشا ، ہاتھ گاڑی ، موٹر سائیکل ، اسکوٹروں کی ریل پیل اور اُن کے ہارن کا شور اُن کے درمیان سے راستہ بناتا وہ بڑی مشکل سے آگے بڑھا ۔

بسم اللہ چکن سینٹر پر چکن خریدنے کے لئے لوگوں کی قطار لگی تھی ۔ ایک تختی پر آج کا نرخ لکھا تھا۔ لٹکتی تختی ہوا کے ساتھ گول گول گھوم رہی تھی ۔

اُس کے سامنے والی چکن کی دُکان پر نرخ ایک روپیہ کم تھا ۔

سدگرو ہوٹل کے باہر مٹھائی بنانے والا پیاز کے بھجئے تل رہا تھا ۔ بڑے سے طباق میں وہ جلیبیاں ، وڑے اور آلو کے پکوڑے پہلے ہی تل چکا تھا ۔ گلزار کولڈرنک میں اِکّا دُکّا گاہک بیٹھے مشروب کا مزہ لے رہے تھے ۔

برف کی گاڑی آگئی تھی ، برف کی بڑی بڑی لادیاں اُس پر سے اُتاری جارہی تھیں ۔ برف لینے والوں کی بھیڑ تھی ۔ جیسے ہی کوئی گاہک برف کی قیمت ادا کرتا ، دو آدمی بڑی آہنی قینچی میں برف کی لادی پکڑ کر اُس کے رکشا میں رکھ آتے ۔

ماموں ابوجی کی دوکان پر دُودھ لینے والوں کی بھیڑ لگی تھی ۔ اُس کے سر پر دُودھ کے نرخ کی تختی ہوا سے گھوم رہی تھی ۔

" ۳ ! روپیہ پاؤ ، ۱۰ ! روپیہ کا ایک کلو ، تین روپیہ پاؤ ، دس روپیہ ایک کلو ۔" ٹماٹر فروخت کرنے والے زور زور سے آوازیں لگا رہے تھے ۔

" بھائی السلام وعلیکم ! " آواز لگاتے ، لگاتے انور اور شکیل نے حسب معمول اُسے سلام کیا ۔ سلام کا جواب دے کر خود کو بھیڑ کے دھکّوں اور نیچے کے کیچڑ سے بچاتا وہ آگے بڑھا ۔

رکشہ کی قطار میں کھڑے عزیز ..... نے اُسے سلام کیا ۔

آگے بڑھا تو پولس اسٹیشن کے باہر کئی سپاہی کھڑے تھے اور ایک سپاہی اُنھیں اُن کی ڈیوٹی کا ایریا بتا رہا تھا ۔

" نمسکار صاحب ! " ایک کانسٹبل نے اُسے سلام کیا ۔

" ارے پوتدار ! چلو ۔ "اُس نے جواب دیا ۔

" نہیں آج میری ڈیوٹی نہیںہے ، شاید کوئی دُوسرا سپاہی آئے ۔ " سپاہی نے جواب دیا۔

مرچی والوں کی دُکان کے پاس سے گذرتے ہوئے اُسے کھانسی آگئی ۔ اُس نے کھانسی پر قابو پایا اور آگے بڑھا ۔ سنگم جویلرس کی دوکان بھی کھل گئی تھی ۔ راج دیپ ہوٹل کے کاؤنٹر پر بیٹھے سندیپ نے اُسے نمسکار کیا اور باہر پوری بھاجی بنانے والے آدمی کو گالی دیتے ہوئے اُسے جلد آرڈر کا مال بنانے کے لئے کہا ۔

سنیما کی گلی سے ہوتا وہ پوسٹ آفس تک آیا ۔ پوسٹ آفس کے باہر منی آرڈر ، رجسٹر کرنے والوں کی بھیڑ تھی ۔ سعیدی ہوٹل کے باہر دوچار آوارہ لڑکے بیٹھے آنے جانے والوں کو چھیڑ رہے تھے اور آنے جانے والی عورتوں اور لڑکیوں پر بھدے فقرے کس رہے تھے ۔

اُن سب سے گذر کر وہ وقت پر آفس پہونچ گیا اور آفس کے کاموں میں لگ گیا۔

آفس میں اُس دِن زیادہ بھیڑ تھی ، کام کا لوڈ بھی زیادہ تھا ۔ایک ، ایک آدمی کو نپٹاتے ہوئے کب دو تین گھنٹے گذر گئے پتا ہی نہیں چل سکا ۔

اچانک اُس کے ایک ساتھی موہن کو اُس کے بھائی کا فون آیا ۔

فون پر بات کرنے کے بعد جب اُس نے ریسیور رکھا رکھا تو اُس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں ۔

" کیا بات ہے ؟ " اُس نے موہن سے پوچھا ۔

" بھائی کا فون تھا ۔ ناکے پر کسی وکیل کو گولی ماردی گئی ہے ۔ وہ جگہ پر ہی مرگیا ۔ شہر میں بھگدڑ مچ گئی ہے ۔ دوکانیں بند ہورہی ہیں ۔گڑ بڑ ہونے کا اندیشہ ہے ،اُس نے کہا ہے کہ میں آفس سے آجاؤں ۔ "

یہ بات سن کر اُس کے ماتھے پر بھی شکنیں اُبھر آئیں ۔ اُس نے سوالیہ نظروں سے باس کی طرف دیکھا ۔

" میں فون لگا کر تفصیلات معلوم کرتا ہوں ۔ " کہتے ہوئے باس نے ریسیور اُٹھایا ۔

دو تین نمبر ڈائل کرکے جھلّا کر ریسیور رکھ دیا ۔

" ٹیلی فون ڈیڈ ہوگیا ہے ۔ "

تھوڑی دیر بعد پیون بھی واپس آگیا ۔ وہ کسی کام سے باہر گیا تھا ۔

" کیا ہوا جادھو ؟ "اُس نے پوچھا ۔

کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے پورے شہر میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے ۔ کسی وکیل کو گولی مار دی گئی ہے ۔ دوکانیں بند ہورہی ہیں ، لوگ اِدھر اُدھر بدحواسی سے بھاگ رہے ہیں ۔ پتا چلا ہے کہ رکشا اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جارہا ہے ۔ میری آنکھوں کے سامنے چار پانچ کانچ پھوٹی رکشا آئی ۔ سب سے زیادہ لفڑا نذرانہ کی طرف ہے ۔ "

" نذرانہ .... ! " یہ سنتے ہی باس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں ۔ میری بیٹی اِس وقت وہاں ٹیوشن کے لئے گئی ہوگی ۔

اور وہ گھبرا کر پھر ریسیور اُٹھا کر ٹیلی فون ڈائل کرنے لگا ۔ اتفاق سے ٹیلی فون لگ گیا ۔

" مینا کہاں ہے ؟ " ٹیوشن کے لئے گئی ہے ۔ " ٹیوشن کا وقت تو ختم ہوگیا ، وہ ابھی تک واپس کیوں نہیں آئی ، سنا ہے اُس علاقے میں بہت گڑبڑ چل رہی ہے ؟ فوراً کسی کو بھیجو اور اُسے ٹیوشن کلاس سے لے آؤ ۔ " کہتے اُس نے ٹیلی فون کا ریسیور رکھ دیا ۔ لیکن اُس کے چہرے پر تفکّر کی شکنیں تھیں ۔

اِس کے بعد اُس نے گھر ٹیلی فون لگا کر حالات معلوم کرنے کی کوشش کی تو ٹیلی فون ڈیڈ ہوچکا تھا ۔ آفس سے باہر جھانکا تو ساری دوکانیں بند ہوگئی تھیں ، سڑکیں سنسان ہوگئی تھیں ، سڑکوں پر کوئی سواری دِکھائی نہیں دیتی تھی ۔ لوگ دودو چار چار کی ٹولیاں بنا کر آپس میں باتیں کررہے تھے ۔

" کیا کیا جائے ؟ " اُس نے باس سے پوچھا ۔ " آفس بند کردیا جائے ۔ "

" بالکل بند کردیا جائے جلدی سے باقی بچے کام نپٹا لیجئے ۔ " باس نے کہا اور پھر گھر فون لگانے کی کوشش کرنے لگا ۔

" جادھو ! سامنے سے نسیم سے موبائیل لے کر آؤ ۔ شاید اُس سے رابطہ قائم ہوسکے ۔ " اُس نے پیون سے کہا ۔

جادھو نے موبائیل فون نہیں لایا ، خود نسیم موبائیل فون لے کر آگیا ۔

"صاحب سارے ٹیلی فون ڈیڈ ہوگئے ہیں ، میں بھی کئی جگہ فون لگانے کی کوشش کررہا ہوں ، آپ کو کون سا نمبر لگانا ہے ؟ "

باس نے نمبر بتایا نسیم نے نمبر لگانے کی کوشش کی مگر نمبر نہیں لگا ۔

" لگتا ہے سارے شہر کے ٹیلی فون بند کردئے گے ہیں ۔ "

سب کام ختم کرنے میں لگ گئے ۔ اُس نے دوچار بار گھر فون لگانے کی کوشش کی اتفاق سے ایک بار لگ گیا ۔

" کیا صورتِ حال ہے ؟ " اُس نے پوچھا ۔

"یہاں پر گڑبڑ ہے ۔ ساری دُکانیں بند ہوگئی ہیں ۔ سڑک کی دونوں طرف ہزاروں افراد کی بھیڑ ہے ، جو ایک دُوسرے کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں ، پتھراؤ بھی ہورہاہے معاملہ کبھی بھی بگڑ سکتا ہے ۔"

" میں گھر آؤں ؟ " اُس نے پوچھا ۔

" گھر آنے کی حماقت بھول کر بھی نہیں کرنا ۔ سارے راستے بند ہیں ، راستوں پر لوگوں کی بھیڑ ہے اور جوش میں بھری بھیڑ کبھی بھی کچھ بھی کرسکتی ہے ۔ آپ جہاں ہیں وہیں رہیں ۔ جب حالات معمول پر آجائیں گے تو آجانا ۔ ورنہ آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ آفس کے آس پاس آپ کے بہت دوست ہیں ، کسی کے پاس بھی رُک جائیی اور مجھ سے رابطہ قائم رکھئے ۔ " بیوی نے جواب دیا ۔

اُس نے ریسیور نیچے رکھا ۔

آفس بند کرنے کی تیاری ہوگئی تھی ۔ موہن کا بھائی اسکوٹر لے کر آگیا تھا ۔

" چلو میں چلتا ہوں ۔ "

" سنو ۔ " اُس نے کہا ۔ " پرانے پل کے راستے نہیں جانا ،اُدھر خطرہ ہے ۔ "

" نہیں میں پل کے راستے ہی آؤں گا ۔ " موہن نے کہا ۔

صاحب اورجادھو بھی آفس بند کرکے جانے کی تےّاری کرہے تھے ، اُن کے گھر آفس سے کافی قریب تھے ۔

" تم کیا کروگے ؟ " باس نے پوچھا ۔

"بیوی کو فون کیا تھا ، وہ کہتی ہے میں گھر واپس آنے کی حماقت نہ کروں ۔ سارے راستے بھیڑ سے بھرے ہیں ، لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھیار ہے ، پتھراؤ ہورہا ہے ، راستے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ میں جن راستوں سے گذر کر گھر پہونچتا ہوں ، وہاں تو بہت زیادہ تناؤ ہے اور پھر اُن علاقوں کا ہر فرد مجھے پہچانتا ہے ۔ ذرا سی گڑبڑی کی صورت میں میری جان کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ "

" تو میرے گھر چلو ، جب حالات معمول پر آجائیں تو گھر چلے جانا ۔ " باس بولا

نہیں میں یہاں رُکتا ہوں ۔ اگر ضرورت پڑی تو آپ کے گھر آجاؤں گا ۔ " آفس بند کردیا گیا ۔ باس اور جادھو چلے گئے ۔ وہ آفس کے سایی میں کھڑا ہوگیا ۔

اُسی وقت سامنے سے مصطفیٰ آتا دِکھائی دیا ۔

" مصطفیٰ کیا بات ہے ؟ " اُس نے پوچھا

" آپ کی طرف ہی آرہا تھا جاوید بھائی ! پورے شہر میں گڑبڑ چل رہی ہے ۔ آپ کا گھر جانا ٹھیک نہیں ہے ، چلئے میرے گھر چلئے ۔ رات میں بھی میرے گھر ہی رُک جانا ۔ میں نے بھابھی کو فون کیا تھا ۔ بھابھی نے کہا ہے کہ میں آپ کو گھر جانے نہ دوں ۔ اپنے گھر روک لوں ۔ وہاں بہت گڑبڑ ہے ۔"

وہ باتیں کرتا مصطفیٰ کے ساتھ اُس کے گھر چل دیا ۔

" گڑبڑ شروع کیسے ہوئی ؟ "

" پتہ نہیں ! وہ وکیل شہر کے چوراہے سے ہوتا کورٹ جارہا تھا ۔ اچانک دو موٹر سائیکل سواروں نے اُسے روک کر اُس کے سر میں گولی مار دی ، وہ وہیں ڈھیر ہوگیا ۔ ہوگی کوئی پرانی دُشمنی یا گینگ وار کا چکّر ۔وہ وکیل ویسے بھی اِس طرح کے کالے کارناموں میں ملوث تھا اور کافی بدنام تھا ۔ لیکن ایک سیاسی جماعت کے کیس کی پیروی بھی وہی کرتا تھا ۔ اِس لئے اس جماعت نے اسے سیاسی اور پھر فرقہ ورانہ رنگ دے دیا ۔ دوکانیں بند کرانے لگے ۔ دوکانیں بند نہ کرنے والے دوکانداروں کو مارتے پیٹتے اور اُن کی دوکانوں پر پتھراؤ کرتے ۔ سامنے جو بھی رکشاآتی اُس کو روک کر اُس کے رکشا ڈرائیور کو مارتے ، رکشاکی کانچ پھوڑ دیتے ، اُسے اُلٹ کر آگ لگا دیتے ۔ خاص طور پر داڑھی والے ڈرائیورس کو نشانہ بناتے ۔ " غصے سے اُس نے اپنے ہونٹ بھینچے ۔

یہ بھی کوئی طریقہ ہے ، معاملہ معمولی سا ہے ۔ ذاتی دُشمنی یا کسی اور وجہ سے قتل ہوا ہوگا ۔ اُسے فوراً سیاسی اور فرقہ وارانہ رنگ دے کر شہر کا امن غارت کیا جائے اور شہریوں کی جان و مال سے کھیلا جائے ۔

اُس نے مصطفیٰ کے گھر دوپہر کا کھانا کھایا ۔

اور دوبارہ گھر فون لگانے کی کوشش کی ، لیکن فون بند ہونے کی وجہ سے رابطہ قائم نہیں ہوسکا ۔

ایک گھنٹے بعد اچانک رابطہ قائم ہوگیا ۔

" یہاں بہت گڑبڑ ہے ۔ " بیوی بتانے لگی ۔ " ہم بلڈنگ کے ٹیرس پر گئے تھے ، آس پاس ہزاروں لوگ جمع ہیں ۔ وہ حملہ کرنے کی تےّاریوں میں ہیں ۔ سامنے والی مسجد پر پتھراؤ ہورہا ہے ۔ اسلامی ہوٹل پر پتھراؤ کیا گیا تھا اور اُسے لوٹنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ لیکن اُس ہوٹل کی گلی میں ہزاروں لڑکے جمع ہوگئے تھے ۔ اُنھوں نے جوابی پتھراؤ کیا تو حملہ آور بھاگ گئے ۔ لیکن دونوں طرف سے سخت نعرے بازی جاری ہے اور پتھراؤ بھی ہورہا ہے ۔ حالات کبھی بھی بگڑ سکتے ہیں ۔ آپ اِس طرف آنے کی قطعی جماقت مت کیجئے ۔ رات میں بھی مصطفیٰ کے گھر ہی رُک جائیی ۔ "

" دیکھو اگر بلڈنگ کو خطرہ محسوس ہوتو تم بچوں کو لے کر اپنے میکے چلی جانا ۔ "

"ویسے تو بلڈنگ کو خطرہ نہیں ہے لیکن جس طرح سامنے لوگ جمع ہیں ، کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ ایسا کچھ ہوا تو میں اس سے پہلے ہی بچوں کو لے کر میکے چلی جاؤں گی ۔ " بیوی نے جواب دیا ۔

بیوی کا میکہ زیادہ دُور نہیں تھا اور وہ گھر سے نسبتاً محفوظ راستوں پر تھا ۔ اِس لئے اُسے اِس بات کا اطمینان تھا ۔ بیوی بچوں کو لے کر آرام سے میکے پہونچ جائے گی جو کافی محفوظ علاقہ ہے ۔ لیکن اپنے گھر کا کیا ؟

کچھ گڑبڑ ہوئی تو اُسے لٹنے اور جلنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ اُنھیں وہ مکان لئے آٹھ مہینے بھی نہیں ہوئے تھے ۔ ساری زندگی کی کمائی ، زیورات اور بینک کا قرض لگا کر اُنھوں نے وہ مکان لیا تھا اور دھیرے دھیرے اُس میں ضرورت کی ہر چیزسجایا تھا ۔ اگر وہ لوٹ لیا گیا یا جلا دیا گیا تو ؟

اُس کا دِل تیزی سے دھڑکنے لگا اور ماتھے پر پسینے کو بوندیں اُبھر آئیں ،مصطفیٰ نے ٹی وی لگایا ۔

ٹی وی کے ہر چینل پر شہر میں ہونے والے ہنگاموں کی خبریں آرہی تھی ۔ شہر میں ایک وکیل کے قتل کے بعد ایک سیاسی پارٹی کے ورکروں کا شہر میں ہنگامہ ، پتھرراؤ اور توڑ پھوڑ ۔

پہلے اُس وکیل کا تعلق اس سیاسی پارٹی سے اس حد تک بتایا گیا کہ وہ اس پارٹی ،جماعت ،کے کیسوں کی پیروی کرتا تھا ۔

پھر خبروں میں اُس وکیل کو اِس سیاسی جماعت کا ورکربتایا گیا ۔

اور آخر میں اُسے اسی سیاسی جماعت کا صدر بنادیا گیا ۔

" ایک سیاسی جماعت کے صدر وکیل کے قتل کے بعد شہر میں سخت تناؤ ، پتھراؤ کی وارداتیں ، دُکانیں لوٹنے ، چھرے بازی کی وارداتیں ۔ امول کاٹیکر نامی ایک شخص کو ایک ہجوم نے مار مار کر اَدھ مرا کردیا ۔ شری پروویژن نامی دوکان جلادی گئی ،مہادیو میڈیکل لوٹ لی گئی ۔ " جیسی خبریں ہر چینل دینے لگا اور تناؤ اور تشدد میں اضافہ کرنے لگا ۔

حالات سنگین ہوتے جارہے تھے ۔ اُس کا دِل ڈوب رہا تھا ۔ اُسے لگا شہر بارُود کا ڈھیر بن چکا ہے اور اب وہ پھٹا ہی چاہتا تھا ۔ آنکھوں کے سامنے گجرات کے فسادات کے واقعات اور خبریں گھوم رہی تھیں ۔ لوگوں کو زندہ جلایا جانا ، چن چن کر لوگوں کو مارنا ، اُن کی اِملاک تباہ و برباد کرنا ، اُن کے مکانوں ، عبادت گاہوں کو مندروں میں تبدیل کرنا ۔

اُسے ایسا محسوس ہورہا تھا ، اگر ایسا ہی کچھ یہاں بھی شروع ہوگیا تو اس سے زیادہ خوفناک واقعات یہاں پیش آسکتے ہیں ۔ ممکن ہے کچھ لوگ گجرات کا اِعادہ کرنا چاہیں تو کچھ گجرات کا بدلہ لینا چاہیں ۔ دونوں صورتوں میں جو کچھ ہوسکتاہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔

اُس کا دِل ڈوبنے لگا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا ۔ کیا یہی ہمارا مقدر بن گیا ہے ؟

باہر لوگوں کی بھیڑ ٹولیوں کی شکل میں جگہ جگہ جمع تھی ۔ ہر کوئی پلان بنا رہا تھا ۔ اگر فساد شروع ہوگیا تو کیا کیا جائے ۔ کچھ بچاؤ کی ترکیبیں سوچ رہے تھے ۔تو کچھ لوٹ مار کا پلان بنارہے تھے ۔ تو کچھ جوابی کاروائی اور حملہ کی منصوبہ بندی کررہے تھے ۔جو لوگ اس جگہ کو غیر محفوظ سمجھ رہے تھے وہ اس جگہ کو چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی طرف جارہے تھے ۔

کچھ جگہوں پر پولس کانام و نشان بھی نہیں تھا اور کچھ جگہوں کو پولس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا تھا ۔ایسا کچھ لوگوں کی حفاظت کے لئے کیا گیاتھا ۔ تو کچھ علاقوں کے لوگوں کو پوری طرح آزاد چھوڑ دیا گیا تھا ، وہ جو چاہے کرسکتے ہیں ، اُن کو روکنے والا کوئی نہیں ہے ۔ تو کچھ علاقوں کو اِس طرح سیل کردیا گیا تھا کہ ان مقاموں پر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ہے اور وہ کچھ نہیں کرسکتے ہیں ۔

شہر سے ناخوش گوار واقعات کی خبریں آرہی تھیں ۔

ہر خبر کے بعد ایسا محسوں ہوتا تھا جیسے حالات سنگین سے سنگین ہوتے جارہے ہیں ۔ تناؤ اور تشدد جاری ہے ۔ اُس نے کئی بار گھر فون لگانے کی کوشش کی لیکن رابطہ قائم نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے اُس کی تشویش بڑھتی جارہی تھی ۔بیوی گھر میں اکیلی ہے ، اُسے میکے جانے کے لئے کہا تھا ۔ پتا نہیں وہ میکے گئی بھی یا نہیں ، اُسے میکے چلے جانا چاہےئے ، لیکن وہ جائے گی نہیں ، اُس کی جان اُس کے گھر میں اٹکی ہے ۔

اِتنی مشکلوں ،اور مصیبتوں سے اُنھوں نے اپنا گھر بنایا تھا ، گھر کی ایک ایک چیز میں اپنا خون پسینہ لگایا تھا ۔ گھر کی ہر اینٹ میں اُن کے ارمان ، خواب چنے ہوئے تھے ۔ بھلا وہ اِس گھر کو چھوڑ کر جاسکتی ہے ؟ اُسے ڈر ہوگا کہ اُس کے سارے یہ ارمان ، خواب جلا کر راکھ نہ کردئے جائیں ۔

لیکن اگر وہ ایسا سوچ رہی ہوگی تو وہ بے وقوف ہے اگر وہ گھر میں رہی تو نہ گھر کو بچا سکے گی اور نہ اپنے آپ کو نہ اپنے بچوں کو ۔

ایک اکیلی کمزور عورت بھلا کس طرح اپنے آپ کو بچا سکتی ہے ۔ ہزاروں واقعات اس کے ذہن میں گردِش کررہے تھے ۔ ایسی عورتوں کو ہوس کا شکار بنا کر زندہ جلا دیا گیا بچوں کو سنگینوں اور ترشول سے چھید کر جلا دیا گیا ۔

" نہیں ....... ! " بے ساختہ اُس کے منہ سے چیخ نکل گئی ۔

" کیا ہوا ؟ " مصطفیٰ نے چونک کر اُس سے پوچھا ۔

" کچھ نہیں ، ایک بھیانک خواب دیکھ رہا تھا ۔ "

" جاگتے ہوئے بھی ؟ " مصطفیٰ مسکرایا ۔

" جو کچھ ہورہا ہے ، وہ بھیانک خواب سے بھی بدتر ہے ۔ ایسے میں جاگنا اور سوناسب برابر ہے ۔ " اُس نے کہا ۔

مصطفیٰ اُس کی بات کو سمجھ نہیں سکا ۔

شام کو اُس نے طے کیا کہ وہ تھوڑی دُور تک حالات کا جائزہ لے کر آئے گا ۔

مصطفیٰ نے اُسے ایسا کرنے سے روکا کہ وہ گھر جانے کی حماقت بھری کوشش نے کرے ۔ لیکن اُس نے اُسے یقین دِلایا کہ وہ گھر جانے کی کوشش نہیں کرے گا ۔

تھوڑی دُور گیا تو اُسے ایک شناسا مل گیا ۔

" جاوید بھائی ! گھر جانے کی آپ کوشش نہ کریں ۔ اس میں بہت خطرہ ہے ۔ آپ کا گھر جن راستوں پر ہے وہ خطروں سے بھرے ہیں ، بہتر ہے کہ آپ رات یہاں ہی رُک جائیی ۔ ویسے تو حالات معمول پر آگئے ہیں لیکن کچھ کہا نہیں جاسکتا کب کیا ہوجائے ۔ "

" نہیں ! میں گھر جانا نہیں چاہتا ہوں بس یوں ہی تھوڑی دُور تک ٹہل کر واپس آجاؤں گا ۔ "

" ویسے اگر آپ محفوظ راستوں سے گھر جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں ۔ ان راستوں پر کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ آئیی میں آپ کو گھر چھوڑ دوں ۔

اُس نے موٹر سائیکل پر بٹھایا اور محفوظ راستوں سے وہ گذرنے لگے ۔ ان راستوں اور محلوں سے گذرتے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہاں بہت کچھ ہوا ہے ۔ سیاسی لیڈر اور بزرگ بھیڑ کو سمجھا کر روکنے کی کوشش کررہے تھے ۔

گھر کے قریب پہونچا تو پیچھے والی گلی ہزاروں لوگوں سے بھری تھی ۔ جنھیں دو لیڈران سمجھا کر خود پر قابو رکھنے کے لئے کہہ رہے تھے ۔

گھر آیا تو بیوی بھڑک اُٹھی ۔

" اِتنا سمجھانے کے بعد بھی آپ نہیں مانے ؟ جان خطرے میں ڈال کر چلے آئے ۔ "

" نہیں ، ایک پہچان والا مل گیا تھا اُس نے محفوظ راستوں سے موٹر سائیکل پر لاکر چھوڑا ۔"

رات تک حالات معمول پر آگئے تھے ۔

یہ طے تھا رات دہشت اور تناؤمیں گذرے گی ۔

لیکن دہشت کا ایک دِن تو بیت گیا تھا ۔

Add:-
M.Mubin
303- Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI – 421 302
Dist. Thane ( Maharashtra)